ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے جو افغانستان سے متعلق علاقائي ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس ميں شرکت کے لئے قزاقستان کے شہر آلماتي گئے ہوئے تھے اجلاس کے بعد اپنے ايک بيان ميں کہا کہ قزاقستان کے صدر نے ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے مذاکرات کي ميزباني کے لئے ايک بار پھر اپني آمادگي کا اعلان کيا ہے –وزير خارجہ صالحي نے اجلاس کے موقع پر قزاقستان کے صدر نور سلطان نظربايف سے ہونےوالي اپني ملاقات کے بارے ميں کہا کہ قزاقستان کے صدر نے مذاکرات کي ميزباني کے لئے اپني آمادگي ظاہر کي ہے انہوں نے کہا کہ اگر پانچ جمع ايک گروپ تيار ہوتو ايران آلماتي ميں ہي مذاکرات کے ايک دور کے لئے تيار ہے –اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ تہران ايٹمي معاملے کو مذاکرت کے ذريعے حل کرنے پر زور ديتا ہے انہوں نے کہا کہ آلماتي دو مذاکرات کے بعد طے پايا تھا کہ يورپي يونين کے شعبہ خارجہ کي پاليسي کي سربراہ کيتھرين اشٹون جيسا کہ انہوں نے ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے سکريٹري سعيد جليلي سے وعدہ کيا تھا آئندہ مذاکرات کے پروگرام کے بارے ميں اطلاع ديں گي -اس دوران ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے ڈپٹي سکريٹري علي باقري نے بھي جنيوا ميں رويٹر نيوز ايجنسي سے اپنے ايک انٹرويو ميں کہاکہ ہم محترمہ کيتھرين اشٹون کے جواب کے منتظر ہيں تاکہ يہ معلوم ہوسکے کہ آئندہ مذاکرات کے لئے جگہ اور تاريخ کا تعين کيسے ہوگا - ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے ڈپٹي سکريٹري اور پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ ايران کي مذاکراتي ٹيم کے سينئررکن علي باقري نے کہا کہ ايران کو تہران کے ايٹمي تحقيقاتي ريکٹر اور چار ديگر ريکٹروں کے لئے بيس فيصد افزودہ يورينيم کي ضرورت ہے -ايران نے بارہا اعلان کيا ہے کہ اس کي ايٹمي سرگرميوں پوري طرح پرامن مقاصد کے لئے ہيں اور يورينيم کي بيس فيصد افزودگي بھي آئي اے اي اے کي نگراني ميں ہي انجام پارہي ہے ليکن تجربے سے يہ باثابت ہے کہ جب بھي مذاکرات ميں کسي نتيجے پر پہنچنے کے قريب ہوتے ہيں مغربي ممالک منجملہ امريکا کوئي نہ کوئي بہانہ تيار کرکے مذاکراتي عمل کا رخ ہي موڑ ديتا ہے - پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ آلماتي ميں ہي ايک بار پھر مذاکرات کے لئے ايران کے وزير خارجہ کا اعلان آمادگي ايک ايسے وقت سامنے آيا ہے جب يہ قياس آرائياں تيز ہورہي ہيں کہ دونوں فريقوں کے درميان مذاکرات ہونےوالے ہيں-البتہ بعض سفارتي ذرائع کا کہنا ہے کہ شايد يہ مذاکرات اب ايران کے آئندہ صدارتي انتخابات کے بعد ہوں يہ وہ موضوع ہے کہ جس کے بارے ميں ايران کے وزير خارجہ نے بہت ہي کھل کر کہا ہے کہ ايران کے ايٹمي معاملے کا ايران کے آئندہ صدارتي انتخابات سے کوئي تعلق نہيں ہے اور جو بھي حکومت برسر اقتدار آئے گي وہ ايران کے اسلامي جمہوري نظام اور عوام کي ہي خواہشات کي پابند ہوگي -
.....
/169